Iqbal Aur Quran

اقبال اور قران ۔ ایک لازوال کتاب
غلام مصطفی خان صاحب ؒ ایک ہمہ صفت شخص تھے۔ انہوں نے پہلے مرکزی ہند کی ناگپور یونیورسٹی میں اردوکی تعلیم دی۔ اور نصاب میں کلامِ اقبال شامل کروایا۔ پھر انہوں نے کراچی آکر وہی کارنامہ انجام دیا اور جب وہ سندھ یونیورسٹی جامشورو میں اردو کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ بنے تو انہوں نے ایک بار پھر علامہ اقبالؒ کی شاعری کا انتخاب کورس میں شامل کیا۔ وہ نقشبندی طریقے کے ایک جید بُزرگ تھے اور راقم الحروف نے خود ان کی دعاؤں کی بدو لت کچھ خاندانوں کو خوشحال ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ان کی زیرِ نظر کتاب بھی ایک کارنامہ ہے کیوں کہ اُن کی طرح گہری نظر اور غائر مطالعے کے بغیر اس معیار کی کتاب نہیں لکھی جاسکتی تھی۔ حکومتِ پاکستان نے اُسے ۱۹۴۷ سے۱۹۸۱ تک اقبال پر لکھی جانے والی بہترین کتاب قرارد یا ہے۔کتاب ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں اقبال کے ہزاروں اشعار کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ کس آیت سے اخذ کیے گئے ہیں۔
کتاب کے لکھنے کی وجہ اقبال ؒ کا یہ دعوےٰ تھا کہ اگر ان کے کلا م میں کوئی شعر قران کریم سے ہٹ کر ہو تو اللہ تعالیٰ ان کا منھ بند کردیں اور روزِ محشر اُنہیں نبی کریمﷺ کی قدم بوسی کی سعادت سے محروم کردیں۔ غلام مصطفی صاحب نے بڑی محنت سے اقبال کا یہ دعویٰ صحیح ثابت کردکھایا ہے۔کتاب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی جگہ خشک اور غیردلچسپ نظر نہیں آتی۔ بلکہ ایک دفعہ اُٹھانے کے بعداُسے ہاتھ سے رکھنے کو جی نہیں چاہتا۔علامہ اقبال ؒ کے والد بزرگوار نہایت دیندار اور متقی شخص تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے اقبال سے کہا کہ میں نے تمہیں تعلیم دینے میں جومحنت کی ہے اس کا معاوضہ چاہتا ہوں۔ اقبال ؒ نے پوچھا کہ وہ ان کی خدمت میں کیا پیش کریں؟۔ انہوں نے
کہا کہ تم اسلام کی خدمت کرنا۔پھر اقبال نے اپنی شاعری کا آغاز کیا اور جس میدان میں بھی قدم رکھا اس میں مقبولیت اور شہرت حاصل کی۔ ان کی نظموں شکوہ وجوابِ شکوہ نے انھیں ہندوستان بھر کے مسلمانوں کا مقبول شاعر بنادیا۔ کیا علماء کیا عامی سبھی ان کی علوئے فکرکے
قائل ہوگئے۔اقبال نے مسلمانوں کو وہ اخلاقی اور فکری برتری عطاکی جس سے وہ حکومت چھن جانے کے بعد محروم ہوگئے تھے۔ ان کی نظم طلوعِ اِسلام اتنی اعلیٰ ہے کہ اس پر الہام کا گمان ہوتا ہے۔ اقبال لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرانِ پاک میں فرمایا ہے کہ ’ تمام خالقوں میں
اللہ بہترین خالق ہے ۔ ‘ اس کا مطلب ہے کہ اگر انسان اللہ تعالیٰ کی کماحقہ عبودیت کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ کے اعلیٰ اخلاق کو مقدور بھر اختیار کرلے تواسے خلاقی عطاہوجاتی ہے۔جو مسلمان طلوعِ اسلام پڑھتا ہے اس کی آنکھیں فرطِ جذبات سے نم ہوجاتی ہیں:
سرشکِ چشمِ مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا خلیل ؑ اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا
کتابِ ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے کہ خونِ صدہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
ان اشعار میں علامہ اقبال ؒ بہترین استعاروں کے ذریعے جنابِ امام مہدی کی آمد کی اطلاع دے رہے ہیں۔ خلیل اللہ کے دریا میں ہم جیسے عامی قطرے بے شمار ہیں۔ لیکن گہر خاص بندے ہی کو کہا جاسکتاہے۔ اور پھر شاخِ ہاشمی کے ذریعے بتایا جارہا ہے کہ ان کا تعلق جنابِ رسول اللہ ﷺ کے خاندان سے ہوگا۔ امام مہدی ؑ کی آمد کی خوش خبری اس سے بہترانداز میں نہیں دی جاسکتی تھی۔
اقبال کے والد ہی نے انھیں کہا تھا کہ تم قران کامطالعہ اس طرح کرو گویا وہ تم پر نازل ہوا ہو۔ اور واقعی اقبال نے جب قران کو سمجھنے کے لیے یہی انداز اختیار کیا تو وہ کلامِ پاک کے معنےٰ کی اُس سطح تک پہنچ گئے جہاں عام قاری کی رسائی نہیں ہوتی۔فرماتے ہیں:
نگاہِ شوق اگر میسر نہیں تجھ کو تیرا وجود ہے قلب و نظر کی رسوائی
اس وقیع کتاب کا تعارف ایک صفحے میں سمیٹنا مشکل ہے۔ اللہ نے چاہا تواس پر مزید لکھونگا۔

About Muhammad Javed Iqbal Kaleem

A Reading, writing hobbyist. Like to exchange views so that informed decisions are made possible and the persistent false propaganda of the powers that be could be countered. I am a great believer in collective conscience of humanity as mankind has been bestowed with the capability to distinguish between good and bad. I am open to new views and ideas.
This entry was posted in Islam. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s