Baqi0001Baqi0002

About Muhammad Javed Iqbal Kaleem

A Reading, writing hobbyist. Like to exchange views so that informed decisions are made possible and the persistent false propaganda of the powers that be could be countered. I am a great believer in collective conscience of humanity as mankind has been bestowed with the capability to distinguish between good and bad. I am open to new views and ideas.
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

One Response to

  1. Javed کہتے ہیں:

    بااقی صدیقی کی ایک یادگار غزل جو مجھے یاد ہے:
    داغ دل ہم کو یاد آنے لگے لوگ اپنے دیئے جلانے لگے
    خود فریبی سی خودفریبی ہے پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
    اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو تیر پر بھی اُڑ کے نشانے لگے
    اب تو ہوتا ہے ہرقدم پہ گماں ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے
    اک پل میں وہاں سے ہم اُٹھے بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s