لاہور لا ہور ہے

اللہ کی جس نعمت کا شکرادا نہیںں کیا جاسکتا وہ دولت ایمان ہے۔ جو مجھے گھر بیٹھے ہاتھ آئی۔ حالانکہ میری ولادت قیام پاکستان سے تقریبا ایک سال پہلے کفرستان بھارت میں ہوئ۔ والدین الحمد للہ مسلم تھے۔ چنانچہ چند ماہ سینٹ جوزف کانونٹ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک اردو اسکول میں داخلہ ہوگیا۔ھائی اسکول کے لیے انجمن حامئ اسلام کے قائم کردہ ادارے انجمن ہائر سیکنڈری اسکول میں داخلہ مل گیا۔ جہاں تمام اساتذہ مسلمان تھے۔اور پاکستان کے پکے حامی۔اس زمانے میں افغانستان کی حکومت بھارت سے قریب تھی جس کے سبب اساتذہ اس کی شکایت کرتے رہتے تھے۔
میرے ایک استاد سید احمد صاحب کا تعلق سہارنپور ضلع سے تھا جس کی ایک بستی دیوبند ہے جہاں مسلمانوں کا ایک دینی مدرسہ دارلعلوم دیوبند واقع ہے۔وہ اردو میں میری صلاحیت سے واقف تھے اور کہا کرتے تھے ابوالکلام آزاد بنوگے؟ لیکن چھٹی جماعت میں جب میری عمر گیارہ برس رہی ہوگی میں اس کی حقیقت سے واقف ہوگیا۔چھٹی جماعت میں اس کی ایک کتاب قول فیصل میرے کورس میں تھی۔ یہ مقدمہ بغاوت کی روداد تھی جو اس پر برطنوی حکومت نے قائم کیا تھا۔ اس نے اسلامی دور میں حریت فکر کا ذکر تھا۔ اور سفیان ثوریؒ اور سعید بن مسیب کے تذکرے تھے۔ اور ایک عالم جنہوں نے ہارون رشید جیسے بادشاہ سے کہا تھا۔ اگرمیں تمہیں ظالم کہہ کر نہ پکاروںں تو میں خود ظالم ہوں۔ابواکلام نے لکھا تھا کہ بہترین جہادظالم حکمران کے سامنے سچ بولنا ہے۔میں نے یہ قول رسول صلی اللہ علیہ و سلم گرہ میں باندھ لیا۔
لیکن میں یہ دیکھ کر بہت مایوس ہوا کہ ابوالکلام نے اپنی سزا کے بعد مسلمانوں کو گاندھی کی اطاعت کرنے کا مشورہ دیا۔ میری چھٹی حس نے بتادیا کہ وہ ایک منافق ہے۔ ذکر تابعین کا کرتا ہے اور حمایت ہندو لیڈر گاندھی کی۔ اس طر ح گیارہ برس کی عمر میں اخلاص اور نفاق کے فرق سے آگاہ ہوگیا۔میں نے تہیہ کرلیا کہ مشکل حاالت میں ہمیشہ سچ بولونگا۔ اسی لیے جب میں نے 13 برس جنگ میں کالم لکھے تو سچ ہی لکھا اور جب مشرف کے سبب سچ بولننے پر پابدی لگی تو میں قلم چھوڑدیا لیکن اظہار حق سے باز نہ آیا۔ پھر جسارت اور مقدمہ اخبار میں لکھا۔ لیکن وہاں بھی جب سچ بولنا مشکل ہوا میں نے صحافت ترک کردی لیکن صداقت ترک نہ کی۔ اب میں سوشیل میڈیا پر لکھتا ہوں اس لیے کہ یہاں اظہار حق پر تا اطلاع ثانی پابدی نہیں ہے۔
لاہورایک تاریخی اور خوبصوت شہر ہے۔ مگر میں اس کی نسبت کراچی کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔اس کا سبب یہ ہے کہ کراچی ایک عوامی شہر ہے۔ جہاں پاکسان بھر سے لوگ آتے ہیں اور اپنی اہلیت کے مطابق رزق پاتے ہیں۔ جبکہ لاہور امراء کا شہر ہے اور وہاں کی مہنگائی کے سبب معاشرتی خرابیاں پروان چڑھتی ہیں۔لاہور ہی کی ایک خاتون کالم نگار نے لکھا ہے کہ بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بلوں کے سبب کچھ خواتین عصمت فروشی پر مجبور ہوگئی ہیں۔ یہ مقام بے غیرتی باعث شرم ہے۔
لاہور کے غرباء غلامی پر رضامند نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں انقلاب کی تحریکیں کراچی ہی سے شروع ہوئیں، لاہور میں صرف اس وقت شہی اُٹھے جب جنرل ضیاءالحق نے بھٹو کے خلاف انقلاب کا بہانہ بناکر اپنے اقتدار کی راہ ہموا ر کی۔ لاہور کا طرز عمل اس لحاظ سے بھی مایوس کن رہا کہ تحریک انصاف کی شکل میں انھیں متبادل قیادت مل رہی تھی لیکن بڑھ چڑھ کر اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے انہوں نے مایوس کن رویہ اختیار کیا۔ جبکہ کراچی میں پیپلش پارٹی کا گڑھ لیاری بھی تحریک انصاف کی حمایت میں اُٹھ کھڑا ہوا۔ لاہور واقعی لاہور ہوتا اگر اُس کے باسی غلامی پر رضا مند نہ ہوتے۔
کراچی 14 فروری ،2016 محمد جاوید اقبال

About Muhammad Javed Iqbal Kaleem

A Reading, writing hobbyist. Like to exchange views so that informed decisions are made possible and the persistent false propaganda of the powers that be could be countered. I am a great believer in collective conscience of humanity as mankind has been bestowed with the capability to distinguish between good and bad. I am open to new views and ideas.
This entry was posted in Pakistan. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s