میں گماں نہیں یقیں ہوں – از نبیلہ ابر راجہ

گو میں اس بات پر یقیں رکھتا ہوں کہ کتابوں کی چوری چوری نہیں۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کبھی اس کی نوبت نہیں آئی۔ لیکن اس کا شکار ضرور ہوا ہوں۔ نبیلہ ابر راجہ کا ناول میں گماں نہیں یقیں ہوں ایک دوست کو پڑھنے دی تھی اور وہ اسے واپس کرنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ آخر کافی شور مچاکر اسے واپش لیا۔ لیکن کتاب پڑھ کر سخت مایوسی ہوئی۔ ہماری بیشتر خاتون لکھنے والی خواب فروخت کرتی ہیں۔ مرد نہایت خوبرو، ہینڈ سم اور امیر ہوتے ہیں۔ ان کے بازو اور سینے کو یہ ترسی ہوئی عورتیں اس صراھت سے سراہتی ہیں کہ ان کی بے حیائی اور بے شرمی پر حیا آنے لگتی ہے۔ ان کی رہائش گاہیں شاندار ہوتی ہیں جن کی آراءش کی تفصیل کئی صفحات گھیرتی ہے۔ وہ سب نہایت خوبصورت ہونے کے علاوہ بہت قیمتی بھی ہوتئ ہیں۔ ان کے لان میں خوبصورت پھول کھلتے ہیں اور دو تین مرسیڈیز کے علاوہ پجیرو یا کیڈیلاک کھڑی ہوتی ہیں۔ غرض زمین پر جنت کا کوئی تصور ہو سکتا ہے تو ہو ہمارے ان جاگیرداروں کو حاصل ہے۔ نام بھی ان کے ایبک یعنی بادشاہوں کے نام پر ہوتے ہیں۔ تو انھیں پڑھنے والا کوئی عام انسان کڑھ کڑھ کرمرنے کے سوا کیا کرسکتاہے؟
اسی طرح ان کے ناولوں کی ہیروئن نہایت حسین و جمیل ‘ نرم و نازک دودھیا گلابی رنگت کی حامل اور نازو نخرے سے پر ہوتی ہیں۔ غرض ان میں کوئی عام لڑکی نہیں ہوتی جو اپنے والدین کی آنکھوں کا نور اور اپنی پھوپھی اور خالاءوں کی آنکھ کا سرور ہو۔ حالانکہ رب تعالیٰ کے لطف و کرم سے ہماری نئی جنریشن نہایت ذہین اور انٹیلیجنٹ ہے۔ ہماری لکھنے والی خواتین کی ہیروئن کبھی عام سی لڑکی نہیں ہوتی جو وطن عزئز میں کڑوڑوں کی تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ جو ضرورت پڑنے پر جاب کرکے اپنے والدین یا شوہر کو سپورٹ کرتی ہیں۔ ان کے اس صبر و ایثار کا انعام کسی مرد معقول سے ان کی شادی ہوتی ہے اور پھر بچے جو مائوں پر جان چھڑکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نا انصاف نہیں ہے۔ وہ اچھی اور محنتی خواتین کے صبرو محنت کا انعام اسی دنیا میں ضرور دیتا ہے۔
لیکن مجال ہے کہ ہماری لکھنے والی خواتین لاکھوں عام لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کریں بلکہ وہ میڈیا کی طرح ان کے دل میں خوا ہشوں اور حسرتوں کی آنچ ضرور بھڑکاتی ہیں۔ ان بدبخت عورتوں نے سمجھ لیا ہے کہ جو کچھ ہے وہ یہی دنیا ہے اور آخرت میں کوئی حساب نہیں ہونا۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں اس ناول کے ساتھ کیا کروں؟ اگر کسی کوڑے کے ڈھیر میں یہ کتاب پڑی نظر آئی تو کبھی اسے اٹھانے کی زحمت نہیں کروںگا۔

About Muhammad Javed Iqbal Kaleem

A Reading, writing hobbyist. Like to exchange views so that informed decisions are made possible and the persistent false propaganda of the powers that be could be countered. I am a great believer in collective conscience of humanity as mankind has been bestowed with the capability to distinguish between good and bad. I am open to new views and ideas.
This entry was posted in Fiction. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s